حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب حکومت نے معروف عالم دین، داعی اتحاد بین المسلمین، سربراہ اُمت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی پر پنجاب میں 15دن کے لیے مجالس سے خطاب پر پابندی لگادی۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق وہ بشمول اسلام آباد پنجاب بھر میں مجالس عزا سے خطاب نہیں کریں گے جبکہ علامہ محمد امین شہیدی ملتان میں تین مقامات پر محرم الحرام کی مجالس سے خطاب کررہے تھے۔
پنجاب حکومت کے اس اقدام پر عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی جارہی ہے جبکہ ملتان انتظامیہ نے علامہ محمد امین شہیدی نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے احکامات پہنچا دیے ہیں۔

مختلف حلقوں کے جانب سے کہا گیا ہے کہ علامہ امین شہیدی کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کرنا انتہائی بیہودہ فیصلہ ہے۔ امین شہیدی اتحاد امت کے داعی ہیں۔ جب ایسی شخصیات پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ ایک اور معتدل آواز کو بند کررہے ہیں۔
مرکزی ترجمان آئی ایس او پاکستان سید حمزہ سبزواری نے بھی پنجاب حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا: محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ممتاز عالم دین اور رکن مرکزی نظارت امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان علامہ امین شہیدی پر پنجاب میں داخلے اور خطاب پر پابندی عائد کرنا شرمناک عمل ہے۔ ایام عزا تمام امت اسلامیہ تک پیغام امام حسین (ع) اور حقیقی اسلام کو پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان ایام میں ملت تشیع کی معتبر اور مؤثر آوازوں کے خلاف حکومتی ہتھکنڈے تکفیری و ملک دشمن عناصر کی آرزوؤں کو تکمیل تک پہنچانے اور ملکی امن وامان کو خراب کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ حکومت اس پابندی کو فی الفور واپس لے وگرنہ ہر منبر و مجلس سے ان عناصر کے خلاف بھر پور آواز بلند کی جائے گی۔









آپ کا تبصرہ